اپنی زبان کا انتخاب کریں


Khaima Ijtima Khaima Ijtima Khaima Ijtima

پارٹنر بننے کیلئے یہا ں کلک کریں

مسیحی ایمان کے حوالے میں سوال و جواب


مضمون نمبر۱۔ پانی اور روح کے وسیلے نئے سرے سے پیدا ہونا


٭ کیو ںخدا کا بیٹا آدمی بنا کر آیا تھا ؟

وہ ہمارا نجات دہندہ بننے کے لئے آدمی بناتا کہ گنہگاروں کو اُن کے گناہوں اور جہنم کی عدالت سے بچا لے جائے ۔

٭ یسوع کون ہے ؟

جیسا کہ پیدائش ۳:۱ اور یوحنا ۳۔۱:۱ میں لکھا ہے ۔ وہ خالق اور سچا خدا ہے ، وہ پوری کائنات کا خدا ہے جو تمام گنہگاروں کو دنیا کے گناہوں سے نجات دیتا ہے ۔ (فلپیوں۶:۲) ”اس نے اگرچہ خدا کی صورت پر تھا خدا کے برابر ہونے کو قبضہ میں رکھنے کی چیز نہ سمجھا “
یوحنا ۱:۳۔۲ ” سب چیزیں اس کے وسیلے سے پیدا ہوئی اور جو کچھ پیدا ہوا ہے اس میں سے کوئی چیز بھی اس کے بغیر پیدا نہیں ہوئی “
یسوع خدا خالق ہے جو کائنات کا بنانے والا ہوا علاوہ ازیں بے شمار لوگ یسوع کی نجات اور محبت پر ایمان نہ لانے کے باعث جھٹکارہ نہیں پا سکیں ہیں ۔ جو اس دُنیا میں انسان کا بدن لے کر آیا تھا ۔ لیکن بہترے اُس کی نجات کو پا کر خدا کے لوگ بن گئے ہیں اور اُس پر ایمان لانے کے وسیلے ہمیشہ کی زندگی کو حاصل کیا ۔ وہ راستباز ٹھہر چکے ہیں ۔

٭ خدا نے کیسی شریعت بنائی تھی ؟

خدا منصوبہ بنانے والا ہے وہی سچا خدا اور کامل حیثیت ہے ۔ اس ہی لئے اُس نے ان مندرجہ ذیل مقاصد کی بنا پر دنیا کو شریعت دی تھی:
(۱) ”اس نے گنہگاروں کو اپنی شریعت اور احکام اس لئے دئیے تاکہ اُنہیں اُن کے گناہوں سے چھٹکارہ دے “ شریعت ہے ۔ جو یسوع مسیح پر ایمان لانے سے نجات تک ہماری رسائی کرواتی ہے ۔ ہمارا نجات دہندہ (رومیوں ۵:۲۔۱
(۲) یسوع اِس دنیا میں اس شریعت کو پورا کرنے آیا تھا ۔ اُس نے بتپسمہ لیا ، صلیب پر اپنا خون بہا دیا اور پھر مردوں میں سے جی اُٹھا تھا ۔ یسوع نے نجات کی شریعت کو پوری دنیا کے گنہگاروں کو چھٹکارہ دینے کے لئے پورا کیا ۔ خدا نے ایمان کی شریعت کو قائم کیا اُن کے لئے جو پانی اور روح کی نجات پر ایمان لاتے ہیں ۔ جو کوئی نجات یا فتہ ہونا اور خدا کافر زند بنانا چاہے خدا کی مقرر کردہ ایمان کی شریعت پر ایمان لے کر آئے ۔
اُسے لازم ہے کہ وہ ۔ یہ نجات کی جانب واحد راستہ ہے اس طرح اُس نے اُن کے لئے ممکن کیا جو روحانی نجات پر اِس شریعت کے مطابق ایمان لاتے اُن کی آسمانوں تک رسائی ممکن ہو چکی ہے ۔

٭ کیا ہمیں یسوع پر ایمان لانا چاہیے ؟

جی ہاں ، ہمیں لا نا چاہیے کیونکہ وہ ہمارا نجات دہندہ ہے ۔ یہ سب سے بڑی راستبازی اور چونکہ یہی اُس کی مرض بھی ہے ۔
”(اعمال ۴:۲۱) اُس کے علاوہ کوئی دوسرا نجات دہندہ نہیں ۔ یسوع ہمارا واحد نجات دہندہ ہے ۔ ہم اُس پر ایمان لانے کے وسیلے ہی چھٹکارہ اور نئے سرے سے پیدا ہو سکتے ہیں ۔ کیونکہ ہم اُس پر ایمان لانے کے وسیلے ہی آسمان کی بادشاہی میں داخل اور نئے سرے سے پیدا ہو سکتے ہیں ۔ ہمیں اُس پر ایمان لانا چاہیے۔

٭ کیا مسیحی ابھی تک گنہگار ہیں:

پولوس رسول ۱۔ تمہیں ۵۱:۱ میں کہتا ہے کہ وہ ایک ایسا ”بڑا گنہگار “ شخص تھا ۔وہ اُن دنوں کے بارے میں کہتا ہے جب وہ یسوع سے نہیں ملا تھا ۔ آج کی مسیحیت میں یہاں بہت سے سوچتے ہیں کہ وہ یسوع پر ایمان لانے کے باوجود آج تک گنہگار ہی ہے ۔ لیکن یہ سچائی نہیں ہے ۔ ہم سب یسوع پر ایمان لانے سے پہلے گنہگار ہی تھے ۔ علاوہ ازیں ایک بار جب ہم یسوع پر اُس کے کلام کے مطابق ایمان لے آتے ہیں تو فی الفور استباز ٹھہرتے بھی جاتے ہیں ۔ پولوس اپنے اُن وقتوں کی یاد کرتا ہے جب وہ یسوع کو نہیں جانتا تھا اور اُس نے اقرار کیا کہ وہ سب گنہگاروں کو سردار ہے ۔
پولوس کو جب ساﺅل کیا جاتا تھا ۔ وہ یسوع سے دمشق کی راہ پر ملا اور اُسے احسا س ہوا کہ یسوع اُس کا نجات دہندہ تھا اِس وہ اُس پر ایمان لایا اور شکر گزاری کی تھی ۔ جس کے بعد اُس نے اپنی پوری زندگی خدا کی راستبازی کی گواہی دی کہ یسوع کے بتپسمہ نے دنیا کے تمام دوسرے لفظوں میں وہ خدا کا خادم بنا گیا جس نے پانی اور روح کی خوشخبری کی منادی کرتی تھی ۔ علاوہ ازیں بیشتر مسیحی ابھی تک یہ سوچتے ہیں کہ پولوس رسول یسوع سے ملنے کے بعد بھی گنہگار تھا ۔ وہ اِس حوالہ وہ مسیحی گنہگار کے نظریہ سے غلط سمجھتے ہیں ۔ جنہوں نے ابھی تک نئی پیدائش کو حاصل نہیں کیا ہے ۔ بہر حال سچائی یہ ہے کہ یسوع سے ملنے کے بعد مزید گنہگار نہیں رہا تھا ۔ دوسرے لفظوں میں وہ خدا کا خادم بنا گیا میں نے پانی اور روح کی خوشخبری کی منادی کی تھی ۔ تاہم بیشتر مسیحیوں کا خیال ہے ۔
بلکہ وہ ایسا شخص بنا گیا جو یسوع کا سامنا کسی بھی وقت کر سکتا ہے ۔ اُس نے اپنی باقی کی زندگی کو نجات کی خوشخبری کے لئے منسوب کر دیا تھا ۔ وہ سب میں یسوع کا بتپسمہ اور اُس کا خون چھٹکارہ دیتا ہے ۔ حتی کہ اُس کے گزر جانے کے بعد بھی کتاب مقدس میں اُس کے لکھے ہوئے خطوں میں شامل ہیں ۔ جو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ابتدائی کلیسیا سے ہی پانی اور روح کی سچی خوش خبری سنائی گئی ۔ تاہم پولوس رسول کا ۱۔ تمیس ۵۱:۱ اُس کے پرانے دنوں کا مجموعہ اور خدا وند کی شکر گزاری ہے ۔ کیا وہ یسوع پر ایمان لانے کے باوجود بھی گنہگار رہا تھا ؟ نہیں ۔ وہ نئے سرے سے پیدا ہونے سے پہلے گنہگار تھا ۔ جس لمحہ وہ یسوع پر بطور نجات دہندہ ایمان لایا ۔ جس تمہ اسے احسا س ہوا کہ دنیا کے گناہوں کو یسوع نے اپنے بتپسمہ کے وسیلے سے اُٹھا لیا ۔ اُسی لمحے وہ لا ایمان لایا کہ اُس کے گناہوں کا کفارہ صلیب پر بہائے خون سے دیا جا چکا ہے ۔ تو وہ راستباز ٹھہرا ۔ کسی وجہ سے وہ اپنے آپ کو تمام گنہگاروں کا سردار کہتا تھا ۔ کیونکہ وہ اُس وقت کو یاد کرتا تھا جب اُس نے یسوع کے شاگردوں کو اذیتیں دی تھیں اور شکر گزاری کرتا ہے کہ خدا نے اُسے نجات دی ایک نا اُمید گنہگار تھا ۔

٭ کون اب تک اپنے آپ کوگنہگار کہہ سکتا ہے ؟

کون کسی کو گنہگار بلا سکتا ہے اگرچہ وہ خود یسوع کے بتپسمہ اور خون کی نجات پر ایمان لانے وسیلے راستباز ٹھہرا ؟ ایسا صرف وہ لوگ کر سکتے ہیں جو یسوع کی گناہوں کی معافی کی سچائی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہیں ۔ پولوس رسول کے نجات پر ایمان لانے کے وسیلے راستباز ٹھہرایا گیا ۔ اور اُس وقت کے بعد بطور خدا کا خادم ہو کر راستباز ہو نے کی خوشخبری کی منادی یسوع مسیح پر ایمان لانے کے لئے سب کے سامنا وہ کرتا رہا ۔ کہ وہ خدا کا بیٹا بطور ہمارا نجات دہندہ ہوا ۔ اُس کے بعد سے پولوش رسول گنہگار نہیں تھا بلکہ راستباز خدا کا خادم ہوا ۔ ایک ایسا سچا خدا کا خادم جس نے پوری دنیا کے گنہگاروں کو خوشخبری کو بشارت دی تھی ۔ کیا گنہگاروں کے سامنے بشارت دے سکتا ہے ؟ ایسا کبھی ہو نہیں سکتا ہے ۔ کیسے کوئی دوسروں کو کوئی بشارت دے سکتا ہے جبکہ اُس کے خود کے پاس کچھ نہیں جب کوئی خود نجات یا فتہ نہیں کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کو نجات دے سکیں ۔
اگر کوئی خص ڈوب رہا ہواور وہ اپنے نزدیک دوسرے ڈوبتے شخص کو بچانے کی کوشش کرئے تو دونوں پانی میں ڈوب جائیں گے ۔ کس طرح گنہگار دوسروں کی بچا سکتا ہے ؟ وہ صرف اُسے بھی اپنے ساتھ جہنم میں لے جائے گا ۔ کسی طرح ایک بیمار آدمی کسی دوسرے بیمار شخص کی دیکھ بھال پورے طور سے کر سکتا ہے ؟ کس طرح ابلیس سے دھوکا کھایا ہوا شخص دوسرے کو بچا سکتا ہے ؟ پولوس رسول گنہگار تھا لیکن وہ اُس وقت راستباز ٹھہرا جب وہ یسوع کے بتپسمہ اور خون پر ایمان لایا تھا اور جس نے گناہ سے نجات پائی ۔ اس لئے وہ خدا کا خادم بنا سکا اور دنیا کے گنہگاروں کے سامنے خوشخبری کی منادی کی ۔ اُس نے خدا کی راستبازی کے وسیلے بہت سے گنہگاروں کو بچایا ۔ اُس کی ش خصیت اُس وقت کے بلا مزید گنہگار نہیں رہی تھی ۔ اُس نئی پیدائش حاصل کی تھی اور شریعت کی راستبازی میں زندگی نہیںگزاری ۔ بلکہ خدا کی راستبازی میں رہا ۔ وہ اُس کا خادم ہوا اور خدا کی راستبازی کا مبشر ٹھہرا ۔ اور اُس نے اپنے جوش یا شریعت کی راستبازی میں بشارت دی ۔ بلکہ وہ خدا کی راستبازی کا خادم تھا ۔
آخر کار وہ گنہگار ہی تھا ؟ نہیں وہ راستبازتھا ۔ بطور راستباز شخص ہوتے ہوئے وہ خدا کی سچائی کا رسول ہوا ۔ ہم اُسے گنہگار نہیں کہہ سکتے ہیں کیونکہ اس میں خدا کی بے عزت ہے اور ساتھ یہ واضح طور سے سچائی کو غلط سمجھنے سے ہے ۔ وہ ایک راستباز تھا ۔ ہمیں کچھ اور سوچ کر اُس کی اور یسوع کی بے عزتی نہیں کرنی چاہیے ۔ اگر ہم کہیں کہ وہ یسوع سے ملنے کے باوجود بھی گنہگار ہی تھا تو یہ یسوع کو جھوٹا ٹھہرانا ہو گا ۔ یسوع نے اُسے راستباز ٹھہرایا اور یہ یسوع ہی تھا جس نے اُسے اُس کی راستبازی کا خادم ہونے کے لئے چنا تھا ۔

٭ کیا توبہ کی دُعائیں ہمارے گناہوں کی دھو سکتی ہیں ؟

توبہ کی دُعا نہیں کبھی ہمارے گناہوں کو دھو نہیں سکتی ہے ۔ جس کے برعکس اپنے تمام گناہوں سے مکمل اور مستقبل چھٹکارہ پانے کے لئے ہمیں یسوع کے بتپسمہ اور خون پر ایمان لانا ہو گا ۔ اور جیسا کہ یسوع خدا ہے ۔ سچی گناہوں کی معافی اُن کو ملتی ہے ۔ جو لوگ ایمان لاتے ہیں کہ یسوع نے اپنے بتپسمہ لینے اور صلیب پر اپنا خون بہانے سے ہمارے تمام گناہوں کو دیا اور ہمیں نئی زندگی بخشی ہے ۔
تو کیا ہم توبہ کی دعاﺅں کے ہدیے پیش کرنے کے وسیلے روزمرہ کے گناہوں کو دھو سکتے ہیں ؟ نہیں وہ سب گناہ جو ہم نے اپنی پوری زندگی میں کیے وہ تقریباً آج سے 2000ءسال پہلے متا دئیے جا چکے ہیں جب یسوع کے بتپسمہ اور اُس کی صلیب پر بہائے ہوئے خون کے وسیلے اپنے تمام گناہوں سے نجات پا چکے ہیں ۔ وہ ہم جیسے ایمان داروں کے لئے قربانی کا برہ بنا گیا تاکہ اپنے بتپسمہ اور صلیب پر بہائے ہوئے خون کے وسیلے ہمارے تمام گناہوں کو دھو ڈالے اور اُن سب کی قیمت ادا کر دے ۔
حتی کہ وہ گناہ بھی شامل ہیں جو بتپسمہ کی نجات کی دھارا کے وسیلے یسوع پر ایمان لانے سے دھوئے جا چکے ہیں ۔ جو کہ گناہوں کی معافی کی سچائی ہے ۔ یسوع پہلے ہی سے ہمارے تمام گناہوں اُٹھا لے گیا حتی کہ وہ گناہ بھی شامل ہیں جو ہمارے موت کے آخری دن تک کیے جائیں گے ۔ اور وہ ہمارا نجات دہندہ ہوا ہے ۔ یسوع اس دنیا میں آیا اور ”اسی طرح “ بتپسمہ (متی ۳:۵۱) لے کر ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھانے کے لئے راستبازی کو پورا کیا ۔ خدا خکا بیٹا بتپسمہ لینے کے باعث ہمارے گناہوں کا ذمہ دار ہو گیا ۔ یسوع کے بتپسمہ کے معنی ”دھو دینا “ ہے ۔ چونکہ جب اُس نے بتپسمہ لیا تو یسوع پر ہمارے تمام گناہ آگئے تھے ۔ ہم مکمل اپنے گناہوں سے دھوئے جا چکے ہیں اور اِسنے ہمیں ہمارے تمام گناہوں سے چھٹکارہ دیا ہے ۔ بتپسمہ یہ بھی معنی ہیں کہ ”جی اٹھتا ، بدل جانا “ اُس وقت یسوع پر ہمارے تمام گناہوں کو ڈالا گیا ۔ اُسے گنہگاروں کے لئے مرنا ضروری تھا ۔ وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں کہ اُس کے بتپسمہ کے وسیلے یسوع پر سب گناہ ڈالتے گئے تو وہ ابدی گناہوں کی خلاصی کو حاصل کر تے ہیں ۔
سچا ایمان یہ ہے کہ آپ ہمارے پورے دل سے ایمان لائیں کہ ہمارے تمام گناہوں کو حتی کہ وہ گناہ بھی جو ابھی کرتے اور مستقبل میں کرئے گئے وہ سب تقریباً2000سال پہلے یسوع پر ڈالے گئے ہیں ۔ جس وقت اس نے یوحنا سے بتپسمہ لیا اور ”اِسی طرح “ خدا کی راستبازی کو پورا کیا ۔ اگر اس بہت پہلے اپنے بتپسمہ کے وسیلے ہمارے گناہوں کو دھو نہیں ڈالا تو پھر ہمارے پاس اور کوئی دوسرا راستہ نہیں کہ ہم اپنے گناہوں کی خلاصی کو حاصل کر سکیں ۔ یاد رکھیںیسوع نے بہت عرصہ پہلے ہمارے تمام گناہوں کو مٹا ڈالا ہے ۔
سچا ایمان ا ور آج روحانی نجات کا مطلب یہ ہے کہ اپنے تمام گناہوں کو یسوع کے پاس لا کر تصدیق کر لیں کہ وہ پہلے سے مٹائیں جا چکے ہیں یا نہیں یہ کہتے ہوئے ، ”تو نے میرے ان گناہوں کو معاف کر دیا ہے یا ایسا نہیں ہوا ؟ اِس کا یہ بھی مطلب ہے کہ اُس پر ایمان لائیں اور اُس کی شکر گزاری کریں ۔ اس ہی لئے وہ زمین پر آیا، بتپسمہ لیا ، صلیب پر جانا دے دی اور پھر تیسرے دن مردوں میں سے جی اٹھا اس طرح وہ ہمارا نجات دہندہ بنا گیا ہے ۔ مبارک ہیں وہ جن کے گناہوں کو یسوع کے بتپسمہ پر ایمان لانے کے وسیلے متایا گیا ہے ۔ جس میں ہمارے تمام گناہوں کو مٹایا۔
سچا ایمان ا ور آج روحانی نجات کا مطلب یہ ہے کہ اپنے تمام گناہوں کو یسوع کے پاس لا کر تصدیق کر لیں کہ وہ پہلے سے مٹائیں جا چکے ہیں یا نہیں یہ کہتے ہوئے ، ”تو نے میرے ان گناہوں کو معاف کر دیا ہے یا ایسا نہیں ہوا ؟ اِس کا یہ بھی مطلب ہے کہ اُس پر ایمان لائیں اور اُس کی شکر گزاری کریں ۔ اس ہی لئے وہ زمین پر آیا، بتپسمہ لیا ، صلیب پر جانا دے دی اور پھر تیسرے دن مردوں میں سے جی اٹھا اس طرح وہ ہمارا نجات دہندہ بنا گیا ہے ۔ مبارک ہیں وہ جن کے گناہوں کو یسوع کے بتپسمہ پر ایمان لانے کے وسیلے متایا گیا ہے ۔ جس میں ہمارے تمام گناہوں کو مٹایا ۔

٭ کس طرح وقت کے مطابق ہمیں ہماری پاکیز گی مل سکتی ہے ؟

لفظ ” دستوری پاکیزگی “ اُن میں سے ایک ہے جس خدا کو بے حد نفرت اور ابلیس کو ایسی ایک کو استعمال کرنے میں دلچسپی ہے ۔ ہم اُسی وقت راستباز بنا سکتے ہیں ۔ جب ہمارے پاس اپنے گناہ سے آزاد ہونے کے لئے کوئی راستہ باقی نہ رہے ۔ کیونکہ یسوع نے اپنے بتپسمہ کے ساتھ ہمارے تمام گناہوں کو مٹا دیا اور اُن کی قیمت ادا کرنے کے لئے اپنی جان کی قربانی دے دی ۔ ہم مکمل طور سے اپنی نجات یو یسوع کے بتپسمہ اور خون سے حاصل کر تے ہیں ۔ ہم در حقیقت اپنے اُس ایمان کے وسیلے راستباز ٹھہرتے ہیں کہ یسوع اپنے اوپر ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھا لے گیا ۔ لفظ ”پاکیزگی “ کا مطلب ‘ ‘ پاک ہونے سے “ ہے ۔ جس میں اپنے طور سے کوشش کی جاتی ہے کہ پاک بنا جائے نہ کہ سچائی پر ایمان لانے سے بلکہ اپنے جس کی کمزوری میں کوشش میں رکے رہتے ہیں ۔ وقت کے ساتھ پاکیزگی کی اُمید کار آنا ہماری اپنی روحانی خواہشات میں سے ایک ہے ۔ ہر مذہب میں اپنے طور سے پاکیزگی کے لئے کلام پایا جاتا ہے لیکن ہم جو یسوع پر ایمان رکھتے ہیں ۔ اُنہیں کبھی بھی اپنے لئے ایسے کلام کو اہمیت دینی چاہیے ۔ ہم یسوع پر ایمان لانے کے وسیلے رفتہ رفتہ پاکیزہ نہیں بناتے ہیں ہم ایک ہی بار یسوع کے بتپسمہ اور خون پر ایمان لانے وسیلے راستباز ٹھہرتے ہیں جو روحانی ختنہ کی خوشخبری ہے ۔ سچے راستباز وہ ہیں جو یسوع کے خون اور بتپسمہ کی خوشخبری پر ایمان لاتے ہیں ۔

٭ کیا اپنے گناہوں کا اقرار کرنے سے مٹایا جا سکتا ہے ؟

نہیں، اقرار کرنے سے گناہوں کو دور نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان لانے سے ممکن ہو گا ۔ ہمارے گناہوں اُسی وقت مٹایا جاسکتا ہے ۔ جب ہم یسوع کے بتپسمہ اور خون پر ایمان لاتے ہیں جس کے باعث ہمارے تمام گناہوں کو دھوایا جاتا ہے ۔ یہ یسوع کی روحانی نجات کی خوشخبری ہے جس نے ہمارے تمام گناہوں کو اپنے یرون کے بتپسمہ کے وسیلے مٹا ڈالا ہے ۔
گناہوں کا اقرار صرف اِس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ کوئی خدا کی شریعت کی جان شکا ہے ۔ لیکن گناہوں کی معافی کو اُسی وقت حاصل کر سکتے ہیں جب ہم یسوع کے بتپسمہ اور خون پر ایمان لاتے ہیں ۔ مسیح کا بتپسمہ اور اُس کا خون وہ آسمانی وسچائی ہے جس کے باعث لوگ اپنے تمام گناہوں سے نجات پاتے ہیں اور ہماری نجات ہمارے گناہوں کی اقرار پر منبی نہیں ہے بلکہ اس پر ایمان لانے سے ہے کہ یسوع اپنے بتپسمہ کے ساتھ بنی نوح انسان کے تمام گناہوں کو اُٹھا کر لے گیا ہے ۔ یسوع کی مصلوبیت اُن سب گناہوں کی سزا میں اُسے دی گئی جس نے سب گنہہگاروں کے گناہوں کو اُٹھا لے گیا تھا ۔ اس ہی لئے ہماری اُس کے دریائے یرون کے بتپسمہ اور صلیب پر بہائے ہوئے خون سے ہے ۔ ہمارے تمام گناہوں کو مٹائے جانے کی وجہ سے یہ ہوئی کوینکہ ہم یسوع پر ایمان رکھتے ہیں جو ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھا کر لے گیا ہے ۔
جو لوگ یہ منادی کرتے ہیں کہ گناہوں کا اقرار کرنے کے وسیلے چھٹکارہ حاصل کر سکتے ہیں وہ در حقیقت خدا کی سچی نجات کا انکار کرتے ہیں ۔ اسی لئے ہمیں یسوع کے بتپسمہ در حقیقت اور اُس کے خون پر ایمان لانا چاہیے جو خدا کی نجات ہے ایسا پھر نہ کہتا کہ بنی نوح انسان کے گناہوں کا چھٹکارہ کی حضوری میں اقرار کرنے سے ہو سکتا ہے ۔ یہ بات جان لیں کہ ہمارے گناہ ہمیں جہنم میں لے جائیں گے ۔ لیکن یسوع کے بتپسمہ اور خون پر ایمان لانے سے جو ہمیں نجات دیتی ہے اور ہمیں خدا کی حضور ہمیں ہمارے گناہوں کو دور کر کے راستباز ٹھہراتا ہے ۔ یہ اپنے تمام گناہوں سے چھٹکارہ پانے کا واحد راستہ ہے ۔ آئیے ہم سب یہ بات جان لیں کہ ہم یسوع کے پانی اور کون کی سچائی کے کلام کے وسیلے اپنے تمام گناہوں سے ایک ہی بار چھٹکارہ پا چکے ہیں ۔ ( ۱۔یوحنا:۸:۴) ہر بار ہمارے اقرار کرنے سے گناہ مٹا نہیں سکتے ہیں ۔ اگر آپ اپنے اقرار پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں تو آپ جہنم کی سزا انجام پائیں گے ۔ آئیں ہم سچی خوشخبری پر ایمان لائیں جس کے وسیلے ہمارے دلوں سے گناہوں کو مٹایا جا سکتا ہے ۔ دل سے ایمان لے کر آئیں نہ کہ محض عقل کے ساتھ تو آپ اپنے گناہوں سے ہمیشہ کے لئے آزاد ہو جائیں گے ۔

٭ مسیحی خوشخبری کیا ہے ؟

سچی خوشخبری وہ ہوتی ہے جو ہمیں ہمارے گناہوں سے مکمل چھٹکارہ ایک ہی بار دیتی ہے جب ہم اس پر ایمان لے کر آتے ہیں ۔ خدا کی خوشخبری کی قوت ایسی ہے جیسے دھماکا ہو ۔ خدا کی خوشخبری یہ ہے کہ ”یسوع مسیح نے ترختہ داروں کا قرضہ اُترا (گنہگار ) جو کسی بھی طرح سے اپنے قرضہ کو اتر نہیں سکتے ہیں “۔ اِس خوشخبری کو ”دھماکا “ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ کیونکہ جب ہم اپنے گناہوں کی وجہ سے ہلاک ہونے کے لائق اور جہنم کی عدالت کے لئے تھے تو خدا کا بیٹا ہمارے لئے سوختنی قربانی بنا گیا تاکہ ہمارے تمام گناہوں کو مٹا ڈالے ۔ وہ اِس دنیا میں آیا اور اپنے یرون کے بتپسمہ کے وسیلے دنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا اور ہمارے گناہوں کو ہمیشہ کے لئے دھو ڈالا ۔ اُس نے اپنے یرون کے بتپسمہ کے ساتھ اور صلیب پر جان دینے سے ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھا کر لے جا چکا ہے ۔ یسوع نے دھماکے کی طرح دنیا کے تمام گناہوں کو اپنے بتپسمہ اور خون کے وسیلے اُڑا دیا ہے ۔ یہ سچی خوشخبری ہے ۔ سچی خوشخبری یہ ہے کہ یسوع اِس دنیا میں آیا اور بتپسمہ لینے اور صلیب پر اپنا خون بہانے سے اُن سب کو نجات دینا ہے جو اُس پر ایمان لے کر آتے ہیں ۔ جیسا کہ ۱۔ یوحنا ۵:۶میں لکھا ہے ۔

٭ کیوں یسوع نے خود کو صلیب پر قربان کیا تھا ؟

یسوع کی قربانی ہمارے گناہوں کے لئے ہوئی جس کے لئے اُس نے اپنے بتپسمہ کے وسیلے ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا تھا ۔ اُس نے اپنا بدن ہمارے گناہوں کی قیمت ادا کرنے کے لئے دیا تاکہ ہم اپنے تمام گناہوں کی سزا سے چھٹکارہ پا جائیں ۔ ہمیں کیا جاننے کی ضرورت ہے کہ یسوع نے ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھانے کے لئے یرون میں بتپسمہ لیا تھا ہمیں ایمان لانا چاہیے کہ یسوع اِس ہی وجہ سے صلیب پر قربان ہوا تھا ۔
اگر یسوع اپنے مصلوب ہونے سے پہلے بتپسمہ نہیں پاتا اور اگر وہ صلیب پر اپنی جان نہ دیتا تو ہمارے گناہ اُسی طرح قائم رہتے اس ہی لئے ہمیں یسوع کے بتپسمہ اور خون پر ایمان لانا چاہیے ۔ کیونکہ یسوع خدا کا بیٹا ہے ۔ وہ سوختنی قربانی کا برہ ہوا اُس نے ہمارے تمام گناہوں کو مٹانے کے لئے قربانی دی تھی ۔ ہم سب کو ایمان لانا چاہیے کہ یسوع خدا کا بیٹا ہے جس نے دنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھا کے لئے بتپسمہ لیا تھا اور وہ ہمارے گناہوں کے لئے مصلوب کیا گیا ۔ یسوع نے اس لئے بتپسمہ لیا تاکہ ہمارے گناہوں کو اُٹھا لے پھر وہ مصلوب کیا گیا تاکہ ہم گنہگاروں ہمارے تمام گناہوں سے چھٹکارہ دے سکے اور سزا سے بچالے ۔

٭ یوحنا اصطباغی کون تھا جس نے یسوع کو بتپسمہ دیا ؟

خدا نے بنی اسرائیل کو بنی شریعت موسیٰ کے وسیلے دی اور ساتھ ہی ساتھ قربانی کا نظام بھی دیا تاکہ وہ اپنی خطاﺅں اور گناہوں کی معافی کو کبھی حاصل کر سکیں ۔ اُس نے ہارون کو ( جو موسیٰ کا بڑا بھائی تھا ) بطور سردار کاہن مخصوص کیا اور اُسے ساتھواں مہینے کی دس تاریخ کو کفارہ کی قربانی ادا کرنی ہوتی تھی جیسے یوم کفارہ ہے تاکہ بنی اسرائیل اپنے ایک سال کے تمام گناہوں سے چھٹکارہ پاتے تھے ۔ (احبار۶۱)
خدا نے بتا دیا تھا کہ یوم کفارہ کی قربانی کو صرف ہارون اور اُس کے گھرانے سے سردار کا ہن ادا کریں گے ۔ خدا نے بنی اسرائیل کے لوگوں کے لیے عزاریل کے بکرا کے س ر پر ہارون کے ہاتھوں کے رکھے جانے اپنے گناہوں کی معافی کو حاصل کر تھے ۔ اس کفارہ کے وسیلے کی شریعت کو خدا نے اُن کے لئے قائم کیا تھا ۔ اس عکس میں وہ ہم پر واضح طور پر ظاہر کر دیتا ہے کہ یسوع بنی نوح انسان کا نجات دہندہ تھا ۔ نئے عہد نامہ کے دور میں خدا نے یوحنا اصطباغی کو بھیجا جو ہارون کے گھرانے اور پرانے عہد نامہ کا آخری سردار کاہن ہو کر آیا تھا (۱۔ سلاطین ۰۱۔ ۴۲، لوگا ۱:۵) (متی ۱۱:۱۱۔۳۱) یوحنا اصطباغی خدا کا بھیجا ہو انبی ، بنی نوح انسان کے تمام گناہوں کو یسوع پر ڈالنے کے لئے اُسے بتپسمہ دیا جو خدا کا بیٹا تھا جو گنہگاروں کو اُن کے گناہوں سے بچاتا ہے ۔ یوحنا اصطباغی کے وسیلے سب لوگوں مبارک ہیں جو فی الحقیقت یسوع پر اپنے گناہوں کو ڈال سکتے ہیں ۔ یوحنا کا کردار سردار کا ہن کا تھا جو بنی نوح انسان کا نمائندہ اور خدا کا خادم ٹھہرا جس نے یسوع پر ہمارے تمام گناہوں کو ڈال دیا تھا ۔ یوحنا اصطباغی خدا کی طرف سے بھیجا ہوا بنی نوح انسان کا سردار کا ہن اور نمائندہ تھا اور پیغام دینے والا ہوا جو یسوع سے چھ مہینے پہلے بھیجا گیا تھا ۔ دوسری طرف یسوع خدا کا برہ تھا جو دنیا کے تمام گناہوں کو اُتھا لے گیا جب کہ اِس دوران یوحنا اصطباغی آخری سردار کاہن ہو کر آتا ہے جس نے دنیا کے تمام گناہوں کو بتپسمہ کے وسیلے یسوع پر ڈال دیا ۔ یوحنا اصطباغی خدا کا خادم تھا ۔

٭ روزمرہ کے گناہوں کے لئے پرانے عہد نامے میں کون سی کفارہ کی قربانی تھی ؟

وہاں روزمرہ کے گناہوں کے لئے قربانی موجود تھی جس میں روزمرہ کے گناہوں کے کفارہ کے لئے ہر شخص برہ ، بھیڑ بکریا گائے یا کبوتر کو خمیہ اجتماع میں لے کر آتا اور اُس کے ہاتھوں کے رکھے جانے کے وسیلے اُس کی قربانی پر اُس کے سب گناہ آضاتے تھے ۔ یہ خدا کی شریعت میں روزمرہ کے گناہوں کے کفارہ کے لئے قانون دیا گیا تھا ۔ ( اخبار ۳:۱۔۱۱) یسوع مسیح سالانہ اور روز مرہ کے گناہوں کے کفارہ کو مکمل کیا ہے جب وہ خدا کا برہ ہو کر اپنے بتپسمہ کے وسیلے اپنے سر تمام گناہوں کو اُٹھا کر لے گیا ۔

٭ ہمیشہ کے لئے کفارہ کون سا دیا جاتا تھا ؟

تمام گناہوں کا کفارہ ایک ہی بار یسوع پر ایمان لانے کے وسیلے سے تھا ۔ یسوع خدا کا بیٹا اور ہمار انجات دہندہ ہے جو ابد تک زندہ رہے گا ۔ وہی ہمیشہ کے لئے دنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھا کر لے گیا ہے ۔ اُس نے کس طرح ہمارے تمام گناہوں کو ہمیشہ کے لئے اُٹھا لے گیا ہے ؟
اُس نے ایسا
۱۔ اپنے جسم میں ہونے سے کیا ۔
۲۔ اپنا یوحنا اصطباغی سے دریائے یرون میں بتپسمہ لینے سے کیا ۔

٭ کیا گناہوں کی معافی ایک ی بار یا گزارتے وقت کے ساتھ ملتی ہے ؟

یہ ایک ہی بار دی جاتی ہے کیونکہ یسوع نے ایک بار بتپسمہ لینے سے سب گناہوں کو اُٹھا لیا اور اُن سب کی ایک بار عدالت سہی تھی جیسا کہ اُس نے فرمایا مستی ۳:۵۱ میں ”اب تو ہونے ہی دے ہمیں اسی طرح ساری راستبازی پوری کرنا مناسب ہے ۔
یوحنا :۹۲ میں یوحنا اصطباغی نے فرمایا ۔ ”دیکھو یہ خدا کا برہ ہے جو دنیا کا گناہ اُٹھا لئے جاتا ہے “ ۔ اور یوحنا ۹۱:۰۳ میں یسوع نے فرمایا “ اب تمام ہوا ۔ عبرانیوں ۶۱:۹۔۸۱ میں “ ۔ یسوع کا بتپسمہ اور خون ایک ہی بار دنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھا کر لے گیا ۔

٭ گناہ کی مزدوری کیا ہے ؟

گناہ کی مزدوری موت ہے اس سے کوئی تعلق نہیں کہ وہ کیا ہے ۔ ہر گناہ کی عدالت خدا کی حضوری میں ہوئی اور حتی کہ ایک گناہ کی سزا بھی موت ہی ہے علاوہ ازیں گناہوں کے کفارہ کے لئے بنی اسرائیل کے لوگوں کو بے عیب بھیڑ خدا کی حضوری میں لانا ہوتا تھا ۔ لیکن ایسی قربانیاں اُن کے تمام گناہوں کو ہمیشہ کے لئے نہیں مٹائی جاتی تھیں (عبرانیوں ۱۰:۶) اس ہی لئے خدا نے سب لوگوں کو اُن کے گناہوں سے نجات دینے کے لئے ایک برہ پار کیا ۔ ہر قربانی کے جانور تمام گناہوں کو اُٹھانے کے لئے اُن کے ہاتھوں کے رکھے جانے سے ہوتی اور پھر وہ اُن کی جگہ ہلاک کیا جاتا ہے ۔ نئے عہد نامہ میں یسوع دریائے یرون میں اپنے بتپسمہ کے وسیلے بطور خدا کا برہ بنا کر اُٹھا لے گیا اور ہمارے لئے جان دے دی (رومیو ۶:۳۲) گناہ کی مزدوری موت ہے لیکن یسوع ہماری جگہ اپنی جان دے کر اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے اور دنیا کے سب گنہگاروں کے لئے ہمیشہ کی زندگی کی بخشش کو جاری کرتا ہے ۔

٭ کیو ںیسوع کو صلیب پر جان دینا ضروری تھا ؟

یسوع کی موت دنیا کے تمام گناہوں کی قیمت ادا کی گئی تھی ۔ چونکہ اُس نے اپنے بتپسمہ کے وسیلے اُس کا ذمہ دار ہو ا۔ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے ابدی موت کو دیکھنے والے ہیں لیکن کیونکہ یسوع ہم سب کو پیار کرتا ہے ۔ اُس نے بتپسمہ قبول کیا جس کے باعث ہمارے تمام گناہ اُس پر آگئے تھے اور ہمیں نجات دینے کے لئے صلیب پر جان دے دی ۔
اُس نے ہمیں گناہ سے بچانے کے لئے اپنا آپ قربان کر دیا تاکہ جہنم کی لفت سے چھٹکارہ پا لیں۔ اُس کی موت بنی نوح انسان کے گناہوں کے لئے ہرجانہ ادا کیا اُس نے دنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھانے کے لئے بتپسمہ لیا اور صلیب پر جان دے دی تاکہ ہم سب کو گناہ سے مکتی مل جائے ۔ وہ صلیب پر جان دے گیا اور مردوں میں جی اُٹھاتا کہ ہم راستباز ٹھہریں اور اُس میں ہمیشہ کی زندگی پائیں ۔

٭ جب ہم یسوع پر ایمان لائیں تو ہمیں کیا مل جائے گا ؟

ہم اپنے تمام گناہوں کی معافی کو حاصل کریں گے اور رواستباز ٹھہرائیں گے (رومیو ۸:۱۔۲)
۲۔ ہم اُس کی روح اور ہمیشہ کی زندگی کو حاسل کرتے ہیں۔ (اعمال ۲:۸۳،۱۔یوحنا ۵:۲۱)
۳۔ ہم خدا کے فرزند بنے کا حق حاصل کرتے ہیں ۔
۴۔ ہم آسمان کی بادشاہی اور خدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کا شرف پاتے ہیں ۔ (مکاشفہ باب ۱۲۔۲۲)
۵۔ ہم خدا کی سب برکات کو حاصل کرتے ہیں۔ (افسیوں ۱:۲۔۳۲